اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، یمنی افواج کے ترجمان بریگیڈیئر
جنرل یحییٰ سریع نے کہا ہے کہ تازہ حملے میں 3 امریکی ڈسٹرائیرز کو نشانہ بنایا گیا
ہے جو اسرائیل کی مدد کیلئے مقبوضہ علاقوں کی جانب بڑھ رہے تھے۔
فوجی ترجمان کے مطابق اس کاروائی میں یمن کی بحریہ، فضائیہ اور بری
فوج نے حصہ لیا، 23 بیلسٹک اور ونگڈ میزائل (Winged
Missiles) داغے گئے اور ڈرونز طیاروں سے بھی مدد لی گئی۔
انہوں نے کہا کہ یہ حملے اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک تل ابیب، غزہ
پر حملے بند نہیں کرتا اور فلسطینیوں کو امداد نہیں پہنچائی جاتی۔
دوسری جانب مزاحمتی فورسز کی جانب سے عراق سے بھی مقبوضہ علاقوں میں ایک
اہم ہدف کو ڈرون سے نشانہ بنایا گیا ہے۔
ارنا کی رپورٹ:
بحیرہ احمر میں امریکہ کے تین
جنگی جہازوں پر یمنی افواج کے حملے
یمن کی مسلح افواج کے ترجمان نے بتایا ہے کہ بحیرہ احمر میں بے نظیر آپریشنوں میں امریکہ کے تین جنگی جہازوں پر حملے کئے گئے
ہیں۔
مطابق یمن کی مسلح افواج کے ترجمان یحیی سریع نے بتایا ہے کہ بحیرہ
احمر میں امریکہ کے ان تینوں جنگی جہازوں پر اسی وقت حملے کئے گئے جب ہم نے تل ابیب
اور عسقلان کو بھی میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا تھا۔
یحیی سریع نے کہا کہ جنگ دفاع مقدس اور فتح موعود میں آج کی بحری
کارروائیاں آپریشن طوفان الاقصی کی حمایت میں اور یمن کے خلاف امریکہ اور برطانیہ
کی جارحیتوں کے جواب میں کئے گئے ہیں۔
یحیی سریع نے بتایا کہ ان کارروائیوں میں امریکہ کے تینوں جنگی جہازوں
پر براہ راست حملہ کیا گیا ہے۔
انھوں نے آخر میں کہا کہ ہم
فلسطین اور لبنان کی حمایت میں اپنے حملے بڑھانے کے لئے پوری طرح تیار ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110